صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۹ - سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا حج تمتع پر جواب

حج تمتع کی حدیث: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۶۹

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ ، عَنْ غُنَيْمِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ ، فَقَالَ : " فَعَلْنَاهَا ، وَهَذَا يَوْمَئِذٍ كَافِرٌ بِالْعُرُشِ " يَعْنِي : بُيُوتَ مَكَّةَ ،

غنیم بن قیس روایت:

میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا متعہ کے بارے میں تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نے متعہ کیا ہے اور معاویہ اس دن کافر تھے مکہ کے گھروں میں۔

صحیح مسلم حدیث ۲۹۶۹ کا خلاصہ

اس روایت میں غنیم بن قیس نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے متعہ کے بارے میں پوچھا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہم نے متعہ کیا ہے، اور معاویہ اس دن مکہ کے گھروں میں کافر تھے۔ اس متن میں اصل نکتہ یہ ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اپنے سابقہ عمل کو جواب کے طور پر پیش کیا۔ یہاں متعہ سے مراد اسی باب کے سیاق میں حج تمتع ہے۔ حج تمتع کی حدیث، متعہ حج، اور صحابی کا عمل جیسے الفاظ اس روایت سے جڑتے ہیں۔ حدیث میں جو جملہ معاویہ کے بارے میں آیا ہے، اسے بھی متن کے اندر جیسے ہے ویسے ہی سمجھنا چاہیے؛ اس پر اضافی تاریخی بحث اس روایت میں موجود نہیں۔ آسان لفظوں میں، سوال متعہ کے بارے میں تھا اور جواب میں صحابی نے اپنے کیے ہوئے عمل کا ذکر کیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے سوال کے جواب میں اپنے عمل کو بیان کیا۔
  • حج تمتع کے بارے میں صحابہ کے عملی واقعات نقل ہوئے ہیں۔
  • متن میں جو بات آئی ہے، اسے اسی حد میں رکھنا چاہیے۔
  • سوال و جواب کے انداز سے دینی مسئلہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں