صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۸ - رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ تمتع: سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کا صاف بیان
صحیح مسلم : ۲۹۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۷۸
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْزِلْ فِيهِ الْقُرْآنُ ، قَالَ رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ " ،
عمران روایت:
متعہ کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور نہ اترا اس میں قرآن (یعنی اس سے نہی میں) پھر فلاں شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۷۸ کا خلاصہ
اس روایت میں مطرف سے بیان ہے کہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعہ کیا، اور اس کے بارے میں قرآن نہیں اترا، پھر فلاں شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ اس باب کے سیاق میں متعہ سے مراد حج تمتع ہے۔ یہ حدیث مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے: سیدنا عمران رضی اللہ عنہ ایک ایسے عمل کا ذکر کر رہے ہیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں قرآن میں ممانعت نازل نہیں ہوئی۔ حج تمتع کی حدیث، رسول اللہ کے ساتھ تمتع، اور متعہ حج جیسے الفاظ اس روایت سے براہ راست جڑتے ہیں۔ شرح میں اضافی بحث کے بجائے متن کے انہی جملوں پر توجہ رکھنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کرنے کا ذکر کیا۔
- روایت کے مطابق اس بارے میں قرآن میں ممانعت نازل ہونے کا ذکر نہیں۔
- بعد کی رائے کو حدیث کے بیان سے الگ پہچاننا چاہیے۔
- مختصر حدیث میں اصل الفاظ پر توجہ زیادہ ضروری ہے۔
