صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۱ - حج تمتع کی روایت کا ضبط
حج تمتع کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کیے گئے عمل کا بیان
صحیح مسلم : ۲۹۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۹۸۱
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِمْرَانَ الْقَصِيرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ " وَفَعَلْنَاهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَلَمْ يَقُلْ : " وَأَمَرَنَا بِهَا " .
عمران بن حصین روایت:
ابورجاء سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اسی طرح سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی طرح کیا اور «اَمَرَنَا» کے الفاظ نہیں بولے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۹۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع حج تمتع کی حدیث اور روایت کے الفاظ کا فرق ہے۔ ابورجاء، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون بیان کرتے ہیں، مگر یہاں ایک خاص فرق بتایا گیا ہے کہ الفاظ میں یہ آیا کہ ہم نے یہ عمل رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کیا، اور یہ الفاظ نہیں آئے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ نقل کرتے وقت راوی بہت احتیاط کرتے تھے۔ عام قاری کے لیے اس کا آسان مطلب یہ ہے کہ حج تمتع، عمرہ اور حج کے معاملے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو دیکھا اور کیا، اسے امانت کے ساتھ آگے بیان کیا۔ یہاں اصل زور اسی بات پر ہے کہ روایت میں جو لفظ آیا ہے، وہی نقل کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کی حفاظت بہت اہم ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کیے گئے عمل کو یاد رکھتے تھے۔
- حج تمتع کے باب میں روایت کے الفاظ کا فرق بھی علمی طور پر قابل توجہ ہے۔
