صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۳ - ہدی والوں کا استثنا
حج کو عمرہ بنانا، مگر ہدی والے احرام پر رہیں
صحیح مسلم : ۳۰۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۱۳
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِذِي طَوًى ، وَقَدِمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحَوِّلُوا إِحْرَامَهُمْ بِعُمْرَةٍ ، إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نماز پڑھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی ذی طویٰ میں (وہ ایک وادی ہے مکہ کے قریب) اور مکہ میں صبح آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب تاریخ چوتھی گزر چکی ذی الحجہ کی اور اپنے یاروں کو حکم فرمایا کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ کر ڈالیں۔ مگر جن کے پاس قربانی ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذی طویٰ میں صبح کی نماز پڑھی اور چوتھی ذی الحجہ کو مکہ آئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دیں، مگر جن کے پاس ہدی تھی وہ اس حکم سے الگ رہے۔ یہی اس روایت کا اصل نکتہ ہے۔ حج تمتع کی حدیث، ہدی والے کا حکم، اور احرام کو عمرہ بنانا سمجھنے کے لیے یہ روایت خاص طور پر واضح ہے۔ اس میں حکم کے ساتھ استثنا بھی بیان ہوا ہے، اس لیے ہر حاجی کے لیے ایک ہی بات نہیں کہی گئی؛ ہدی والے اور بغیر ہدی والے میں فرق رکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج کے احرام کو عمرہ میں بدلنے کا حکم دیا گیا۔
- جن کے ساتھ ہدی تھی، انہیں اس حکم سے مستثنیٰ رکھا گیا۔
- روایت میں ذی طویٰ اور چوتھی ذی الحجہ کا ذکر ہے۔
- احرام کے مسائل میں ہدی کا ہونا اہم فرق بناتا ہے۔
