صحیح مسلم حدیث ۳۰۷ - تکلیف میں صبر اور جان کی حرمت
تکلیف میں صبر اور اپنی جان کی حفاظت
صحیح مسلم : ۳۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۷
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْرِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، خَرَجَتْ بِهِ قُرْحَةٌ ، فَلَمَّا آذَتْهُ ، انْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ فَنَكَأَهَا ، فَلَمْ يَرْقإِ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ : " رَبُّكُمْ ، قَدْ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " ، ثُمَّ مَدَّ يَدَهُ إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ لَقَدْ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ جُنْدَبٌ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ .
حسن روایت:
اگلے لوگوں میں ایک شخص کے پھوڑا نکلا۔ اس کو جب بہت تکلیف ہوئی تو اپنے ترکش میں سے ایک تیر نکالا اور پھوڑے کو چیر دیا۔ اس سے پھر خون بند نہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ مر گیا، تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں نے حرام کیا اس پر جنت کو۔ “ پھر اپنا ہاتھ حسن رحمہ اللہ علیہ نے مسجد کی طرف بڑھایا اور کہا: اللہ کی قسم! یہ حدیث مجھ سے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مسجد میں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں پچھلی امتوں کے ایک شخص کا واقعہ بیان ہوا ہے جسے جسمانی تکلیف پہنچی۔ اس نے تکلیف سے گھبرا کر اپنے جسم کو نقصان پہنچایا، پھر خون نہ رکا اور وہ مر گیا۔ حدیث میں اللہ تعالیٰ کا فرمان نقل ہوا کہ اس پر جنت حرام کر دی گئی۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی جان اور جسم کا مالک خود مختار معنی میں نہیں، بلکہ اللہ کی امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کرے۔ یہ روایت خودکشی کی حدیث، جان کی حرمت، تکلیف میں صبر، اور اللہ کے حکم کے سامنے رک جانے کا سبق دیتی ہے۔ حسن رحمہ اللہ نے یہ بھی بتایا کہ یہ حدیث انہیں سیدنا جندب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکلیف کے وقت اپنی جان کو نقصان پہنچانا سخت خطرناک عمل ہے۔
- جسم اور جان اللہ کی امانت ہیں۔
- مشکل میں صبر اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
- حدیث کی نسبت کو راویوں نے واضح طور پر بیان کیا۔
