صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۹ - ہار والے قربانی کے اونٹ پر سوار ہونے کا حکم

مقلد قربانی کا اونٹ: ہار کے باوجود سواری کی اجازت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۰۹

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : بَيْنَمَا رَجُلٌ يَسُوقُ بَدَنَةً مُقَلَّدَةً .

ابوالزناد روایت:

ابوالزناد کی روایت میں بھی وہی مضمون ہے اور اس میں ہے کہ اس اونٹ کے گلے میں ہار بھی تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۲۰۹ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث کے اسی مضمون کو مزید ایک لفظ کے ساتھ بیان کرتی ہے کہ وہ اونٹ مقلدہ تھا، یعنی اس کے گلے میں ہار تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس جانور کو قربانی کے لیے نشان زد کیا گیا ہو، اس کے بارے میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سوار ہونے کا حکم دیا۔ یہاں اصل سبق یہی ہے کہ قربانی کے اونٹ پر سواری کا حکم اس بات کے باوجود آیا کہ اس پر ہدی کی علامت موجود تھی۔ اس کو عام زبان میں یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ہدی کا جانور محترم ہے، مگر متن کے مطابق اسے کھینچ کر چلانے والے کو اس پر بیٹھنے سے نہیں روکا گیا۔ اس لیے یہ روایت قربانی کے اونٹ پر سواری اور مقلد قربانی کے جانور کے حکم کے لیے خاص طور پر متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قربانی کے اونٹ کے گلے میں ہار ہونا روایت میں ذکر ہوا ہے۔
  • ہار موجود ہونے کے باوجود سواری کا حکم بیان ہوا ہے۔
  • حدیث میں جانور کی پہچان اور اس کے استعمال دونوں کا ذکر ملتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں