صحیح مسلم حدیث ۳۲۱۷ - اٹھارہ قربانی کے اونٹ اور راستے میں عاجز ہونے کا حکم
ہدی کا جانور عاجز ہو جائے: اٹھارہ اونٹوں والی روایت
صحیح مسلم : ۳۲۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۱۷
وحدثناه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاح ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ ، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ .
ابن عباس روایت:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں کے روانہ کرنے کا مضمون ہے مگر اس میں اٹھارہ اونٹ مذکور ہے اور باقی مضمون وہی ہے اور اول کا قصہ سنان وغیرہ کا اس میں نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۱۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے اونٹ روانہ کرنے کا مضمون بیان کرتی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اس میں اٹھارہ اونٹوں کا ذکر ہے، جبکہ پہلے روایت میں سولہ کا ذکر آیا تھا، اور سنان وغیرہ کا ابتدائی قصہ یہاں نہیں ہے۔ باقی مضمون وہی ہے: اگر قربانی کا اونٹ راستے میں عاجز ہو جائے تو اس کے بارے میں نحر، خون سے نشان، اور ساتھ والوں کے نہ کھانے کا حکم بیان ہوا۔ اس روایت کو پڑھتے وقت تعداد کے فرق کو متن کے اندر ہی رکھا جائے اور نئی تفصیل نہ بڑھائی جائے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ ہدی کے جانور کے راستے میں ناکارہ یا شدید تھک جانے پر ایک خاص طریقہ بتایا گیا، تاکہ جانور کی قربانی کی حیثیت واضح رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں اٹھارہ قربانی کے اونٹوں کا ذکر آیا ہے۔
- ابتدائی سفر کا قصہ اس روایت میں نہیں آیا۔
- اصل حکم وہی ہے جو عاجز ہونے والے ہدی کے جانور کے بارے میں بیان ہوا۔
- تعداد کے فرق کو متن کی حد میں سمجھا جائے۔
