صحیح مسلم حدیث ۳۲۴ - صدقہ، آزادی اور صلہ رحمی
صدقہ اور صلہ رحمی کے اجر کی حدیث
صحیح مسلم : ۳۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۲۴
وحَدَّثَنَا حسن الحلواني ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ الْحُلْوَانِيُّ : حَدَّثَنَا ، وَقَالَ عَبد ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ أُمُورًا كُنْتُ أَتَحَنَّثُ بِهَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ صَدَقَةٍ ، أَوْ عَتَاقَةٍ ، أَوْ صِلَةِ رَحِمٍ ، أَفِيهَا أَجْرٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِنْ خَيْر " .
حکیم بن حزام روایت:
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، یا رسول اللہ! آپ کیا سمجھتے ہیں جو نیک کام میں نے جاہلیت کے زمانے میں کئے ہیں جیسے صدقہ یا غلام کا آزاد کرنا یا ناتا ملانا ان کا ثواب مجھ کو ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسلام لایا اسی نیکی پر جو پہلے کر چکا ہے۔“ (یعنی وہ نیکی قائم ہے۔ اب اس پر اسلام زیادہ ہوا)۔
صحیح مسلم حدیث ۳۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے جاہلیت کے زمانے کے نیک کاموں کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے خاص طور پر صدقہ، غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسلام لائے ہو اسی نیکی پر جو پہلے کر چکے ہو۔ اس حدیث میں نیکیوں کی قدر، صدقہ کی فضیلت، غلام آزاد کرنے کی نیکی اور رشتہ داروں سے تعلق جوڑنے کی بات آتی ہے۔ یہ روایت یہ سمجھاتی ہے کہ اسلام انسان کو نیکی سے کاٹتا نہیں، بلکہ نیکی کو ایمان کے ساتھ بہتر رخ دیتا ہے۔ جو شخص اسلام میں آ کر نیکی جاری رکھتا ہے، وہ اپنی بھلائی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ، غلام آزاد کرنا اور صلہ رحمی نیک کاموں میں شامل ہیں۔
- اسلام قبول کرنے کے بعد پچھلی نیکیوں کی قدر بیان ہوئی ہے۔
- رشتہ داروں سے تعلق جوڑنا قابل قدر عمل ہے۔
- نیکی کے بارے میں سوال کرنا اور سمجھنا اچھا طریقہ ہے۔
