صحیح مسلم حدیث ۳۳۷ - نیکی اور برائی کا حساب
نیکی اور برائی کے ارادے کا حساب
صحیح مسلم : ۳۳۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۳۷
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً ، وَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَعَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِ مِائَةِ ضِعْفٍ ، وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا لَمْ تُكْتَبْ ، وَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص قصد کرے نیکی کا اور نہ کرے اس کو تو اس کے لئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اور جو شخص قصد کرے نیکی اور کرے اس کو، تو اس کیلئے دس سے سات سو نیکیوں تک لکھی جاتی ہیں۔ اور جو شخص قصد کرے برائی کا پھر نہ کرے اس کو تو وہ نہیں لکھی جاتی اور جو کرے تو لکھی جاتی ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیکی اور برائی کے ارادے کا حساب صاف بیان فرمایا۔ جو شخص نیکی کا ارادہ کرے مگر اسے نہ کر سکے، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اگر وہ نیکی کر لے تو دس سے سات سو تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ جو شخص برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے، وہ برائی نہیں لکھی جاتی۔ اگر وہ برائی کر لے تو لکھی جاتی ہے۔ یہ حدیث انسان کو نیکی کی طرف بڑھاتی ہے اور برائی سے رکنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اس کا پیغام سادہ ہے: اچھا ارادہ بھی قیمتی ہے، اچھا عمل اس سے بڑھ کر ہے، اور برائی چھوڑ دینا بندے کے لیے بہتر راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیکی کا ارادہ ایک نیکی کے طور پر لکھا جاتا ہے۔
- نیکی کا عمل دس سے سات سو تک بڑھا کر لکھا جاتا ہے۔
- برائی کا ارادہ چھوڑ دیا جائے تو وہ نہیں لکھی جاتی۔
- برائی کرنے پر وہ لکھی جاتی ہے۔
