صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۶ - بیٹیاں اور بہنیں پیش نہ کرو

محرمات نکاح کی حدیث: بہن، ربیبہ اور رضاعی رشتہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۵۸۶

حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنا هِشَامٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَت : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ لَهُ : هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ ، فقَالَ : " أَفْعَلُ مَاذَا " ، قُلْتُ : تَنْكِحُهَا ، قَالَ : " أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكِ " ، قُلْتُ : لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي الْخَيْرِ أُخْتِي ، قَالَ : " فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي " ، قُلْتُ : فَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي ، مَا حَلَّتْ لِي ، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ " .

ام حبیبہ روایت:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی کہ آپ میری بہن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو نہیں چاہتے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ پھر میں کیا کروں؟“ میں نے کہا: آپ ان سے نکاح کریں (ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو اس وقت یہ مسئلہ نہیں معلوم تھا کہ دو بہنوں کا جمع کرنا نکاح میں منع ہے) تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ کیا تم کو یہ امر گوارہ ہے؟“میں نے کہا کہ میں اکیلی تو آپ کے نکاح میں ہوں میری بہن نہیں اور دوست رکھتی ہوں جو خیر میں میرے ساتھ شریک ہو وہ میری بہن ہی ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ وہ مجھے حلال نہیں ہے۔“ میں نے کہا کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام دیا ہے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی لڑکی؟“ میں نے کہا: ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ وہ میری گود میں پرورش نہ پاتی جب بھی وہ مجھ پر حلال نہ ہوتی۔ اس لیے کہ وہ میری بھتیجی ہے رضاعت سے دودھ پلایا ہے مجھ کو اور اس کے باپ کو یعنی (ابوسلمہ کو) ثوبیہ رضی اللہ عنہا نے سو تم لوگ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کا مجھے پیغام نہ دیا کرو۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۵۸۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم سے اپنی بہن کے نکاح کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اکیلی آپ کے نکاح میں نہیں ہوں، اس لیے خیر میں میری بہن شریک ہو تو مجھے محبوب ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ میرے لیے حلال نہیں۔ پھر درہ بنت ابی سلمہ کا ذکر آیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ اگر وہ میری پرورش میں ربیبہ نہ بھی ہوتیں تب بھی حلال نہ ہوتیں، کیونکہ وہ رضاعت سے میرے بھائی کی بیٹی ہیں۔ حدیث میں ثوبیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی ہے کہ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم اور ابو سلمہ کو دودھ پلایا۔ اس روایت کا اصل پیغام محرمات نکاح، رضاعی رشتہ نکاح اور ربیبہ سے نکاح کے حکم سے متعلق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نکاح کے مشورے میں محرم رشتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • ایک بہن کا اپنی بہن کے لیے خیر چاہنا حدیث کے متن میں موجود ہے، مگر حکم شرعی کے تابع ہے۔
  • ربیبہ اور رضاعی بھتیجی کے رشتے اس روایت میں نکاح کے لیے مانع بتائے گئے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو میرے سامنے پیش نہ کرو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں