صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۹ - والد کا حق اور آزادی دلانا

والد کا حق: بیٹا کب بڑا بدلہ دے سکتا ہے؟

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹۹

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا ، إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا ، فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : وَلَدٌ وَالِدَهُ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیٹا باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا مگر ایک صورت میں کہ باپ کو کسی کا غلام دیکھے پھر خرید کر اس کو آزاد کر دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع والدین کا حق ہے، خاص طور پر باپ کا حق۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کر سکتا، مگر ایک صورت میں کہ اسے کسی کا غلام پائے، پھر اسے خرید کر آزاد کر دے۔ یہ حدیث باپ کے احسان کی بڑائی کو بہت مختصر مگر گہرے انداز میں بیان کرتی ہے۔ متن میں ماں یا دوسرے رشتوں کی تفصیل نہیں، اس لیے توضیح بھی باپ کے حق تک رکھی گئی ہے۔ اس روایت میں غلامی سے آزادی کا پہلو بھی آتا ہے، مگر اصل نکتہ باپ کے حق کا وزن ہے۔ بیٹے کے بہت سے اچھے کام ہو سکتے ہیں، لیکن حدیث نے خاص صورت یہ بتائی کہ اگر باپ غلام ہو اور بیٹا اسے خرید کر آزاد کر دے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • باپ کا حق بہت بڑا ہے، جسے ادا کرنا آسان نہیں۔
  • حدیث میں ایک خاص صورت بیان ہوئی: باپ کو غلام پائے، خریدے، آزاد کرے۔
  • غلامی سے آزادی یہاں والد کے حق کی ادائیگی کے ساتھ جڑی ہے۔
  • متن سے زیادہ عمومی دعوے کرنے کے بجائے خاص الفاظ پر رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں