صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۸ - بیع غرر اور کنکری کی بیع سے ممانعت
بیع غرر کی حدیث: دھوکے والی خرید و فروخت سے بچیں
صحیح مسلم : ۳۸۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۰۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ " .
ابوہریرہ روایت:
منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری کی بیع سے اور دھوکے کی بیع سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بیع الحصاۃ یعنی کنکری کی بیع اور بیع الغرر یعنی دھوکے والی بیع سے منع فرمایا۔ متن مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے: خرید و فروخت ایسا معاملہ نہیں ہونا چاہیے جس میں نتیجہ، مال یا سودا دھندلا ہو۔ بیع غرر کی حدیث آج بھی لین دین کے آداب سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ جب سودا کرنے والا خود بھی پوری طرح نہ جانتا ہو کہ کیا ملے گا، یا معاملہ اندازے اور دھوکے پر کھڑا ہو، تو یہ حدیث ایسے طریقے سے روکتی ہے۔ اسی لیے بیع غرر، دھوکے کی بیع، اور کنکری کی بیع جیسے الفاظ اس روایت کے اصل سرچ موضوعات ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دھوکے یا شدید ابہام والی بیع سے بچنا چاہیے۔
- کنکری کی بیع جیسی غیر واضح صورت حدیث میں منع آئی ہے۔
- خرید و فروخت میں مال اور معاملہ صاف ہونا چاہیے۔
