صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۵ - مزابنہ
مزابنہ کی حدیث: تر پھل کو خشک کھجور کے بدلے نہ بیچنا
صحیح مسلم : ۳۸۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۷۵
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُمَا ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ " ،
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا پھل کے بیچنے سے جب تک اس کی صلاحیت معلوم نہ ہو اور درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ پھل کو اس وقت تک نہ بیچا جائے جب تک اس کی صلاحیت ظاہر نہ ہو۔ دوسری یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے نہ بیچا جائے۔ یہی موضوع عام طور پر مزابنہ کی حدیث کے نام سے بھی تلاش کیا جاتا ہے۔ متن کے اندر اصل احتیاط یہ ہے کہ ایسی چیز کا بدل ایسی چیز سے نہ کیا جائے جس میں مقدار، حالت، یا نتیجہ واضح نہ ہو۔ درخت کی تازہ کھجور ابھی پوری طرح ہاتھ میں نہیں، جبکہ خشک کھجور موجود اور معلوم ہو سکتی ہے۔ اس فرق سے معاملہ غیر صاف ہو سکتا ہے۔ حدیث ہمیں کہتی ہے کہ بیع میں واضح چیز، واضح بدل، اور صلاحیت ظاہر ہونے کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پھل کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے بیع نہ کی جائے۔
- درخت کی کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع کیا گیا ہے۔
- سودے میں چیز اور بدل دونوں کی حالت واضح ہونی چاہیے۔
