صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۰ - عرایا
عرایا کی بیع: گھر والوں کے لیے تر کھجور لینے کی رخصت
صحیح مسلم : ۳۸۸۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۸۸۰
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يُحَدِّثُ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، حَدَّثَهُ : " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، رَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا " .
زید بن ثابت روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رخصت دی عریہ میں اور مراد عریہ سے یہ ہے کہ ایک گھر کے لوگ اندازے سے کھجور دیں اور اس کے بدلے درخت پر تر کھجور کھانے کو خرید لیں۔
صحیح مسلم حدیث ۳۸۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ میں رخصت دی۔ روایت میں عریہ کی صورت بھی بیان ہو گئی: گھر والے اندازے کے مطابق خشک کھجور دیتے ہیں اور اس کے بدلے درخت پر لگی تر کھجور کھانے کے لیے لے لیتے ہیں۔ یہ عرایا کی حدیث ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو مزابنہ کی ممانعت اور عریہ کی رخصت میں فرق سمجھنا چاہتے ہیں۔ متن کے مطابق یہاں مقصد گھر والوں کا تر کھجور کھانا ہے، اور معاملہ اندازے کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس لیے اس روایت سے جو سبق لیا جائے وہ اسی خاص صورت سے جڑا رہنا چاہیے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ بعض اوقات ایک خاص ضرورت یا صورت میں رخصت دی جاتی ہے، مگر اس کی حدود متن ہی سے سمجھی جاتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عریہ کی صورت روایت میں واضح کی گئی ہے۔
- گھر والوں کے لیے تر کھجور کھانے کی ضرورت کا ذکر آیا ہے۔
- رخصت کو اسی خاص صورت اور اندازے کے دائرے میں سمجھنا چاہیے۔
