صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۱ - سونے چاندی کے بدلے کرایہ

سونے چاندی پر زمین کرایہ: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا جواب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۹۵۱

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ : عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ، فَقَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ " ، قَالَ : فَقُلْتُ : أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ ، فَقَالَ : أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ، فَلَا بَأْسَ بِهِ .

حنظلہ بن قیس روایت:

حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج سے پوچھا: زمین کو کرایہ پر چلانا کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے، میں نے کہا: کیا چاندی اور سونے کے عوض میں بھی کرایہ دینا منع ہے؟ انہوں نے کہا: چاندی اور سونے کے بدل تو قباحت نہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۹۵۱ کا خلاصہ

اس روایت میں حنظلہ بن قیس نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرایہ پر چلانے کے بارے میں پوچھا۔ رافع رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ پھر حنظلہ نے خاص طور پر پوچھا کہ کیا چاندی اور سونے کے عوض بھی کرایہ دینا منع ہے؟ رافع رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ چاندی اور سونے کے بدل تو کوئی قباحت نہیں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع زمین کرایہ حدیث میں فرق کو سمجھنا ہے۔ ایک طرف عام ممانعت کا ذکر ہے، دوسری طرف نقد یعنی سونے چاندی کے بدلے کی صورت کو الگ بتایا گیا۔ اس لیے شرح میں اسی فرق کو رکھنا چاہیے، نہ کہ متن سے باہر کوئی لمبی بحث شامل کی جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سوال واضح ہو تو جواب بھی زیادہ صاف سمجھ آتا ہے۔
  • رافع رضی اللہ عنہ نے سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کو بے قباحت کہا۔
  • زمین کرایہ کے مسئلے میں ہر صورت کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں