صحیح مسلم حدیث ۴۰۲ - سورج کا ٹھہرنے کا مقام
والشمس تجری لمستقر لہا کی حدیث اور سورج کا مستقر
صحیح مسلم : ۴۰۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۲
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاق : أَخْبَرَنَا ، وَقَال الأَشَجُّ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 قَالَ : مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ " .
ابوذر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اس آیت کے بارے میں «وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا» ”آفتاب چلا جا رہا ہے اپنے ٹھہرنے کی جگہ پر جانے کیلئے“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے ٹھہرنے کی جگہ عرش کے تلے ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۲ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی آیت والشمس تجری لمستقر لہا کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر مگر بہت معنی خیز جواب دیا کہ اس کا ٹھہرنے کا مقام عرش کے نیچے ہے۔ یہاں اصل توجہ اللہ کی عظمت، عرش الٰہی اور کائنات پر اس کے حکم کی طرف ہے۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن کی آیت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تشریح کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔ سورج کا مستقر، عرش کے نیچے سورج، قرآن کی آیت کی تفسیر اور آفتاب کی حدیث جیسے سرچ الفاظ اسی مضمون کو ظاہر کرتے ہیں۔ بندے کے لیے سبق یہ ہے کہ جہاں نص آئے وہاں ادب سے ماننا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی آیت کی بہترین وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے ملتی ہے۔
- سورج کا نظام اللہ کے حکم اور قدرت کے تابع ہے۔
- دینی سوال ادب کے ساتھ پوچھنا علم حاصل کرنے کا اچھا طریقہ ہے۔
- عرش الٰہی کا ذکر بندے کو اللہ کی عظمت یاد دلاتا ہے۔
