صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۵ - شکار یا بکریوں کے کتے کے سوا ایک قیراط کمی
شکاری اور بکریوں کے کتے کی اجازت، باقی پر ایک قیراط کمی
صحیح مسلم : ۴۰۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۳۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَزِينٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا ، لَيْسَ بِكَلْبِ صَيْدٍ ، وَلَا غَنَمٍ ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کتا رکھے اور وہ شکاری یا بکریوں کی حفاظت کے لیے نہ ہو تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کا نقصان ہو گا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۰۳۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ جو شخص کتا رکھے اور وہ شکاری نہ ہو، نہ بکریوں کی حفاظت کے لیے ہو، تو اس کے عمل میں سے ہر روز ایک قیراط کا نقصان ہو گا۔ یہاں کھیت کا ذکر نہیں آیا، اس لیے اس حدیث کی وضاحت بھی صرف شکاری کتے اور بکریوں کے کتے تک رکھی جانی چاہیے۔ متن میں عمل کی کمی ایک قیراط کہی گئی ہے۔ اس وجہ سے یہ روایت کتا پالنے کی حدیث، بکریوں کے کتے کا حکم، شکاری کتا، اور ایک قیراط نقصان جیسے سرچ الفاظ کے لیے موزوں ہے۔ حدیث کا سادہ سبق یہ ہے کہ جو کتا واقعی کام کے لیے ہو، اس کا حکم الگ بیان ہوا، اور بے ضرورت رکھنے پر عمل کے نقصان کا ذکر آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شکاری کتے کو اس روایت میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔
- بکریوں کی حفاظت والے کتے کا ذکر اجازت کے ساتھ ہے۔
- بلا ضرورت کتا رکھنے پر ایک قیراط کمی بیان ہوئی ہے۔
