صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۶ - خراب کھجور بیچ کر اچھی کھجور خریدیں

خراب کھجور بدلنے کا نبوی طریقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۰۸۶

حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، قَالَ : " سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : أَيَدًا بِيَدٍ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَا بَأْسَ بِهِ ، فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ ، فَقُلْتُ : إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّرْفِ ، فَقَالَ : أَيَدًا بِيَدٍ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَا بَأْسَ بِهِ ، قَالَ : أَوَ قَالَ ذَلِكَ : إِنَّا سَنَكْتُبُ إِلَيْهِ ، فَلَا يُفْتِيكُمُوهُ ، قَالَ : فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَاءَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ ، فَأَنْكَرَهُ ، فَقَالَ : كَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا ، قَالَ : كَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْءِ ، فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ ، فَقَالَ : أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَكَ مِنْ تَمْرِكَ شَيْءٌ ، فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنَ التَّمْرِ " .

ابونضرہ روایت:

میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا «صرف» کو یعنی سونے چاندی کی بیع کو چاندی سونے کے بدلے انہوں نے کہا: نقدا نقد؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا نقدا نقد میں کچھ قباحت نہیں۔ میں نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا «صرف» کو انہوں نے کہا: نقدا نقد؟ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: نقدا نقد میں کچھ قباحت نہیں، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسا کہا۔ہم ان کو لکھیں گے وہ تم کو ایسا فتویٰ نہیں دیں گے اور کہا اللہ کی قسم! بعض جوان آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھجور لےکر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نیا سمجھا۔ اور فرمایا: ”یہ تو ہمارے ملک کی نہیں ہے۔“ انہوں نے کہا: اس سال میں ہمارے ملک کی کھجور میں کچھ نقصان تھا تو میں نے یہ کھجور لی اور اس کے بدلے میں زیادہ کھجوریں دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے زیادہ دیا تو سود دیا۔ اب اس کے پاس نہ جانا۔ جب تم کو اپنی کھجور میں نقصان معلوم ہو تو اس کو بیچ ڈالو پھر جو کھجور پسند کرو وہ خرید کر لو۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۰۸۶ کا خلاصہ

اس روایت میں ابو نضرہ نے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا، پھر سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا۔ کچھ جوان رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے لیے کھجور لائے، آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے اپنے علاقے کی کھجور جیسی نہ پایا۔ بتایا گیا کہ اس سال کھجور میں کچھ خرابی تھی، اس لیے اچھی کھجور لینے کے لیے زیادہ کھجور دی گئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم نے زیادہ دیا تو سود دیا، اس کے قریب نہ جانا۔ پھر ہدایت دی کہ اگر اپنی کھجور میں کمی لگے تو اسے بیچ دو، پھر جو کھجور پسند ہو وہ خرید لو۔ یہی حلال تجارت کا محفوظ راستہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خراب مال کو بہتر مال سے بدلتے وقت شرعی طریقہ اپنانا چاہیے۔
  • زیادہ دے کر ایک ہی جنس لینا سود میں داخل ہو سکتا ہے۔
  • پسند کی چیز خریدنے کے لیے پہلے اپنی چیز بیچنا بہتر طریقہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں