صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۹ - اللہ کے بہتر بندے اور قرض
اللہ کے بہتر بندے: قرض اچھے طریقے سے ادا کرنے والے
صحیح مسلم : ۴۱۰۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۰۹
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَسْلَمَ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍمَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اسْتَسْلَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكْرًا بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : " فَإِنَّ خَيْرَ عِبَادِ اللَّهِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً " .
ابورافع روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ کا جوان بچھڑا قرض لیا، پھر بیان کیا اسی طرح اس میں یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر بندے اللہ کے وہ ہیں جو اچھی طرح سے قرض ادا کریں۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابورافع رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مولیٰ تھے، وہی قرض والے واقعے کو بیان کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوان اونٹ قرض لیا، پھر اسی طرح واقعہ بیان ہوا، مگر اس روایت میں الفاظ یہ آئے کہ اللہ کے بندوں میں بہتر وہ ہیں جو قرض اچھی طرح ادا کرتے ہیں۔ قرض کی ادائیگی کی حدیث میں یہ جملہ بہت سیدھا اور دل میں اترنے والا ہے۔ اس میں اصل زور اس بات پر ہے کہ کسی کا حق لیا جائے تو اسے واپس بھی اچھے طریقے سے کیا جائے۔ یہاں قرض کو بوجھ سمجھ کر ٹالنے کی بات نہیں، بلکہ اسے ذمہ داری سمجھ کر پورا کرنے کی بات ہے۔ یہی حسن معاملہ انسان کے دین اور اخلاق دونوں کو بہتر بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرض لینا ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا معاملہ ہے۔
- اللہ کے بہتر بندوں کی صفت اچھی ادائیگی بتائی گئی ہے۔
- قرض واپس کرتے وقت اچھا انداز اختیار کرنا چاہیے۔
- حق دار کا حق ادا کرنا اخلاقی خوبی ہے۔
