صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۳ - بیعت سے پہلے حال پوچھنا
بیعت سے پہلے تحقیق: غلام ہے یا آزاد؟
صحیح مسلم : ۴۱۱۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۱۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، قَالَا : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح ، وحَدَّثَنِيهِ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " جَاءَ عَبْدٌ فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَلَمْ يَشْعُرْ أَنَّهُ عَبْدٌ ، فَجَاءَ سَيِّدُهُ يُرِيدُهُ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِعْنِيهِ فَاشْتَرَاهُ بِعَبْدَيْنِ أَسْوَدَيْنِ ، ثُمَّ لَمْ يُبَايِعْ أَحَدًا بَعْدُ حَتَّى يَسْأَلَهُ أَعَبْدٌ هُوَ " .
جابر روایت:
ایک غلام آیا اور اس نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہ تھا کہ یہ غلام ہے۔ پھر اس کا مالک آیا اس کے لینے کو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو بیچ ڈال میرے ہاتھ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کالے غلام دے کر اس کو خریدا۔ اس کے بعد کسی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیعت نہ لیتے۔ ”جب تک یہ پوچھ نہ لیتے غلام ہے (یا آزاد ہے) وہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۱۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام آیا اور اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم نہیں تھا کہ وہ غلام ہے۔ پھر اس کا مالک اسے لینے آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھ بیچ دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کالے غلام دے کر اسے خرید لیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سے بیعت نہ لیتے جب تک یہ نہ پوچھ لیتے کہ وہ غلام ہے یا آزاد۔ اس روایت کا اصل سبق تحقیق اور وضاحت ہے۔ بیعت ایک سنجیدہ معاملہ تھا، اس لیے بعد میں پوچھنے کا اہتمام کیا گیا۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بڑے فیصلے سے پہلے آدمی کی حالت اور ذمہ داریوں کو جاننا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اہم معاملہ کرنے سے پہلے متعلقہ بات پوچھ لینی چاہیے۔
- غلط فہمی سامنے آئے تو اسے درست طریقے سے حل کیا گیا۔
- مالک کے مطالبے کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- بعد کے معاملات میں احتیاط اور تحقیق کا اہتمام کیا گیا۔
