صحیح مسلم حدیث ۴۱۲ - زمزم سے سینہ دھونے کا بیان

شرح صدر کی حدیث: زمزم کے پانی سے سینہ دھونا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۱۲

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أُتِيتُ فَانْطَلَقُوا بِي إِلَى زَمْزَمَ ، فَشُرِحَ عَنْ صَدْرِي ، ثُمَّ غُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ ، ثُمَّ أُنْزِلْتُ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس فرشتے آئے اور مجھے لے گئے زم زم کے پاس، پھر چیرا گیا سینہ میرا اور دھویا گیا زم زم کے پانی سے، پھر چھوڑ دیا گیا میں اپنی جگہ پر۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۱۲ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتے آپ کے پاس آئے، آپ کو زمزم کے پاس لے گئے، پھر آپ کا سینہ چاک کیا گیا اور زمزم کے پانی سے دھویا گیا، پھر آپ کو آپ کی جگہ چھوڑ دیا گیا۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اسی حد تک بات کرنا درست ہے۔ اس کا اصل موضوع شرح صدر، زمزم کا پانی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والا خاص واقعہ ہے۔ اس میں تفصیلی سفر، براق یا نمازوں کی فرضیت کا ذکر نہیں، اس لیے انہیں اس روایت کی شرح میں اصل موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ شرح صدر کی حدیث، سینہ دھونا، زمزم کا پانی اور فرشتے اس حدیث کے اہم سرچ الفاظ ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ کے حکم سے خاص واقعہ پیش آیا۔
  • زمزم کے پانی کا ذکر اس روایت میں خاص طور پر آیا ہے۔
  • مختصر روایت سے اتنی ہی بات اخذ کرنی چاہیے جتنی اس میں موجود ہو۔
  • فرشتوں کا عمل اللہ کے حکم کے تابع تھا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں