صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۷ - وصیت ہر وقت تیار رکھیں
وصیت کی حدیث: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عملی نمونہ
صحیح مسلم : ۴۲۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۰۷
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ يَبِيتُ ثَلَاثَ لَيَالٍ ، إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ عِنْدَهُ مَكْتُوبَةٌ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : مَا مَرَّتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ ذَلِكَ إِلَّا وَعِنْدِي وَصِيَّتِي ،
عبداللہ بن عمر روایت:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مسلمان کو لائق نہیں ہے جس کے پاس کوئی شئے ہو وصیت کرنے کے قابل وہ تین راتیں گزارے۔ مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے جب سے یہ حدیث سنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس روز سے ایک رات بھی میرے اوپر ایسی نہیں گزری کہ میرے پاس میری وصیت نہ ہو۔
صحیح مسلم حدیث ۴۲۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے پاس کوئی قابلِ وصیت چیز ہو، اس کے لیے مناسب نہیں کہ تین راتیں اس حال میں گزارے کہ اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی نقل ہوا کہ جب سے انہوں نے یہ حدیث سنی، ایک رات بھی ایسی نہیں گزری کہ ان کے پاس وصیت موجود نہ ہو۔ اس سے وصیت کی حدیث کا عملی پہلو سامنے آتا ہے۔ وصیت لکھنا صرف ایک قانونی کاغذ نہیں، بلکہ ذمہ داری کا احساس ہے۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ مال، حق اور گھر والوں سے متعلق باتیں واضح کر دی جائیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وصیت لکھ کر رکھنا حدیث میں صاف تاکید کے ساتھ آیا ہے۔
- صحابی نے حدیث سن کر اس پر پابندی سے عمل کیا۔
- قابلِ وصیت چیز ہو تو معاملہ مؤخر نہیں کرنا چاہیے۔
