صحیح مسلم حدیث ۴۲۴ - معراج اور فطرت کا انتخاب
معراج کی حدیث: دودھ کا انتخاب اور فطرت کی راہ
صحیح مسلم : ۴۲۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۴
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد وتقاربا في اللفظ ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبد ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِينَ أُسْرِيَ بِي ، لَقِيتُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ ، قَالَ : مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ ، كَأَنَّهُ مِنَ رِجَالِ شَنُوءَةَ ، قَالَ : وَلَقِيتُ عِيسَى ، فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ ، كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا ، قَالَ : وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ، قَالَ : فَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ ، وَفِي الآخَرِ خَمْرٌ ، فَقِيلَ لِي : خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ ، فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ ، فَقَالَ : هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ ، أَمَّا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہوا۔ کہ ”میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی صورت بیان کی میں خیال کرتا ہوں آپ نے یوں فرمایا: (یہ شک ہے راوی کو) ”وہ لمبے چھریرے تھے سیدھے بال والے جیسے شنوءۃ کے لوگ ہوتے ہیں“ اور فرمایا کہ ”میں عیسیٰ علیہ السلام سے ملا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی صورت بیان کی، وہ میانہ قامت تھے سرخ رنگ جیسے ابھی کوئی حمام سے نکلا“ (یعنی ایسے تروتازہ اور خوش رنگ تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا تو میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ ہوں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں دودھ تھا اور ایک میں شراب اور مجھ سے کہا گیا جس کو چاہو پسند کر لو میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور دودھ پیا اس نے کہا: (یعنی اس فرشتے نے جو یہ دونوں برتن لے کر آیا تھا) تم کو راہ ملی فطرت کی یا تم پہنچ گئے فطرت کو، اور تم جو شراب کو اختیار کر تے تو تمہاری امت گمراہ ہو جاتی۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۴ کا خلاصہ
یہ معراج کی حدیث ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کا ذکر فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ایک راوی کے شک کے ساتھ لمبے، چھریرے اور سیدھے بالوں والے ہونے کا ذکر آیا۔ عیسیٰ علیہ السلام میانہ قامت اور سرخ رنگ بتائے گئے، جیسے کوئی حمام سے نکلا ہو۔ ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ان کی اولاد میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ ہوں۔ پھر دو برتن پیش کیے گئے: ایک دودھ کا اور ایک شراب کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پسند کیا۔ اس پر کہا گیا کہ آپ کو فطرت کی راہ ملی یا آپ فطرت تک پہنچے۔ متن کے مطابق اگر شراب اختیار کی جاتی تو امت کے گمراہ ہونے کا ذکر آیا۔ اس حدیث میں معراج، فطرت اور دودھ کے انتخاب کا مضمون صاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- معراج میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی انبیاء علیہم السلام سے ملاقات فرمائی۔
- دودھ کا انتخاب فطرت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
- ابراہیم علیہ السلام سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشابہت بیان ہوئی ہے۔
- حدیث میں شراب کے انتخاب کے بارے میں سخت نتیجہ بیان کیا گیا ہے۔
