صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۳ - نذر کا کفارہ قسم جیسا ہے
نذر کا کفارہ: قسم کے کفارے جیسا حکم
صحیح مسلم : ۴۲۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۲۵۳
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ يُونُسُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ " .
عقبہ بن عامر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۲۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ نذر کا کفارہ ایک ایسا موضوع ہے جسے لوگ بہت تلاش کرتے ہیں، کیونکہ کبھی انسان نذر مان لیتا ہے اور پھر اسے پورا کرنے کے بارے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ حدیث کا لفظ مختصر ہے مگر معنی واضح ہے کہ نذر کے کفارے کا تعلق قسم کے کفارے سے جوڑا گیا۔ اس روایت میں تفصیل نہیں آئی کہ کون سی نذر کس حالت میں ہے، اس لیے یہاں صرف اتنی بات کہی جا سکتی ہے جو حدیث میں ہے: نذر کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا ہے۔ اس سے بندے کو یہ بھی سمجھ آتی ہے کہ نذر معمولی بات نہیں، زبان سے نکلی ہوئی ذمہ داری ہے۔ اس لیے نذر ماننے سے پہلے سوچنا چاہیے، اور اگر مسئلہ ہو تو علمائے کرام سے پوچھ کر عمل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نذر کا کفارہ قسم کے کفارے جیسا بتایا گیا۔
- نذر زبان سے نکلی ہوئی ذمہ داری ہے۔
- نذر سے پہلے سوچ سمجھ لینا چاہیے۔
