صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۶ - انصاری شخص کی وصیت اور چھ غلام
وصیت میں چھ غلام آزاد کرنا: اسی واقعے کی دوسری روایت
صحیح مسلم : ۴۳۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۳۶
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، عَنْ الثَّقَفِيِّ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَمَّا حَمَّادٌ فَحَدِيثُهُ كَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ ، فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ ،
وہی ہے جو اوپر گزرا ثقفی کی روایت ہے، کہ ایک مرد انصاری نے اپنے مرتے وقت وصیت کی اور چھ غلاموں کو آزاد کر دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں وہی واقعہ بیان ہوا ہے جو اوپر گزرا، مگر ثقفی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ وہ شخص انصار میں سے تھا۔ اس نے اپنے مرتے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے۔ دیے گئے متن میں پوری تفصیل دوبارہ نہیں آئی، اس لیے اسے پچھلی روایت کے ساتھ سمجھا جائے گا: چھ غلام، موت کا وقت، اور اس کے علاوہ مال نہ ہونے کا مسئلہ۔ یہاں اصل موضوع وصیت میں مالی حد اور غلام آزاد کرنے کا معاملہ ہے۔ ہمیں اس روایت سے وہی بات لینی چاہیے جو متن میں ہے، یعنی ایک انصاری شخص نے موت کے وقت وصیت کے ذریعے چھ مملوک آزاد کیے۔ باقی تفصیل پچھلی روایت میں بیان ہو چکی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلے واقعے کی دوسری سند اور لفظی وضاحت ہے۔
- ثقفی کی روایت میں شخص کے انصاری ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- وصیت کے ذریعے چھ غلام آزاد کرنے کا عمل بیان ہوا ہے۔
- اس متن میں جو تفصیل موجود نہیں، اسے الگ سے نہیں بڑھانا چاہیے۔
