صحیح مسلم حدیث ۴۳۹۸ - چوری کی حد کا نصاب
چوری کی حد کا نصاب: چوتھائی دینار کی حدیث
صحیح مسلم : ۴۳۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۳۹۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْطَعُ السَّارِقَ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا " ،
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہاتھ پاؤں چوتھائی دینار یا زیادہ کے مال میں کاٹتے چور کا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۳۹۸ کا خلاصہ
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس روایت میں بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ مال میں کاٹتے تھے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع چوری کی حد کا نصاب ہے۔ متن میں صرف نصاب بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے باہر کی تفصیلات کو اسی حدیث کے نام پر نہیں بڑھانا چاہیے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ اسلام نے چوری کو جرم قرار دیا اور اس کے لیے ایک مقرر مقدار کا ذکر کیا۔ اس روایت میں چوتھائی دینار کا لفظ اہم ہے، جو اس مسئلے کی حد بندی بتاتا ہے۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ مال کے حقوق کی حفاظت کی گئی ہے اور فیصلے اندازے سے نہیں بلکہ مقرر معیار کے ساتھ ہوتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چوری کے معاملے میں چوتھائی دینار یا زیادہ کا نصاب بیان ہوا۔
- مال کے حق کو محفوظ رکھنے کا پہلو اس حدیث میں موجود ہے۔
- متن میں جو مقدار آئی ہے، بات اسی پر رکھی جانی چاہیے۔
