صحیح مسلم حدیث ۴۴۱ - کیا نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟
کیا نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے رب کو دیکھا؟ سیدہ عائشہؓ کا محتاط جواب
صحیح مسلم : ۴۴۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۱
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ : هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ ؟ فَقَالَتْ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بقصته وحديث داود ، أتم ، وأطول .
مسروق سے روایت ہے، میں نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، انہوں نے کہا: سبحان اللہ! میرے روئیں کھڑے ہو گئے (اس بات کے سننے سے) اور بیان کیا حدیث کو اسی طرح لیکن روایت داؤد کی (جو اوپر گزری) بڑی اور پوری ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دیدارِ الٰہی اور نبی صلى الله عليه وسلم کے بارے میں ایک اہم سوال ہے۔ مسروق نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا محمد صلى الله عليه وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا؟ سیدہ عائشہؓ نے جواب سن کر “سبحان اللہ” کہا اور بتایا کہ اس بات سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیدار، معراج اور نبی صلى الله عليه وسلم کے رب کو دیکھنے کے مسئلے میں عام انداز سے بات نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں حدیث صرف اتنا بتاتی ہے کہ سیدہ عائشہؓ نے اس دعوے کو بہت سخت سمجھا اور پھر پہلے گزرنے والی تفصیل کی طرف اشارہ کیا۔ اس لیے اس موضوع پر الفاظ ناپ تول کر بولنے چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ کے بارے میں بات کرتے وقت بے حد احتیاط کرنی چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم سے منسوب بات بغیر دلیل کے نہیں کہنی چاہیے۔
- صحابہ کرامؓ علمی سوال کرتے تھے اور جواب کو سنجیدگی سے لیتے تھے۔
