صحیح مسلم حدیث ۴۴۳ - وہ نور ہے، میں کیسے دیکھتا؟
وہ نور ہے، میں اسے کیسے دیکھتا؟ دیدارِ الٰہی کا سوال
صحیح مسلم : ۴۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ رَأَيْتَ رَبَّكَ ؟ قَالَ : نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ " .
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو نور ہے میں اس کو کیسے دیکھتا۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے براہ راست سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے جواب دیا: “وہ تو نور ہے، میں اس کو کیسے دیکھتا۔” اس مختصر جواب میں بہت بڑی احتیاط ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ ہم اپنی طرف سے تفصیل بڑھائیں، بلکہ یہی الفاظ اصل بنیاد ہیں۔ دیدارِ الٰہی، اللہ کا نور، اور نبی صلى الله عليه وسلم کا جواب جیسے موضوعات میں متن سے آگے بڑھ کر دعویٰ کرنا درست نہیں۔ ایک سادہ طالب علم کے لیے اس روایت کا سبق یہ ہے کہ جو بات رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمائی، اسی پر ٹھہرا جائے، خاص طور پر جب معاملہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے متعلق ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
- صحابیؓ نے اہم عقیدے کا سوال براہ راست نبی صلى الله عليه وسلم سے کیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ کو اسی طرح قبول کرنا ایمان والی احتیاط ہے۔
