صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۷ - ولید بن عقبہ اور شراب کی حد

ولید بن عقبہ کا واقعہ: شراب کی حد میں چالیس اور اسی کا بیان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۴۵۷

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الدَّانَاجِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ فَيْرُوزَ مَوْلَى ابْنِ عَامِرٍ الدَّانَاجِ ، حَدَّثَنَا حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ أَبُو سَاسَانَ قَالَ : " شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ قَدْ صَلَّى الصُّبْحَ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : أَزِيدُكُمْ فَشَهِدَ عَلَيْهِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا حُمْرَانُ أَنَّهُ شَرِبَ الْخَمْرَ وَشَهِدَ آخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْ حَتَّى شَرِبَهَا ، فَقَالَ : يَا عَلِيُّ قُمْ فَاجْلِدْهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : قُمْ يَا حَسَنُ فَاجْلِدْهُ ، فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا فَكَأَنَّهُ وَجَدَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ : قُمْ فَاجْلِدْهُ ، فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ حَتَّى بَلَغَ أَرْبَعِينَ ، فَقَالَ : أَمْسِكْ ثُمَّ ، قَالَ : جَلَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ ، وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ ، وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَيَّ " زَادَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي رِوَايَتِهِ ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : وَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثَ الدَّانَاجِ مِنْهُ فَلَمْ أَحْفَظْهُ .

حصین بن منذر روایت:

میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ولید بن عقبہ کو لے کر آئے انہوں نے صبح کی دو رکعتیں پڑھیں تھیں پھر کہا: میں زیادہ کرتا ہوں تمہارے لیے تو دو آدمیوں نے ولید پر گواہی دی۔ ایک تو حمران نے کہ اس نے شراب پی ہے۔ دوسرے نے یہ گواہی دی کہ وہ میرے سامنے قے کر رہا تھا شراب کی۔سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس نے شراب نہ پی ہوتی تو قے کاہے کو کرتا شراب کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کہا: اٹھو اس کو حد لگاؤ۔ (یہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عزت اور عظمت بڑھانے کے لیے حکم دیا اور امام کو یہ امر جائز ہے) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے حسن! اٹھ اور اس کو کوڑے لگا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: عثمان خلافت کا سرد لے چکے ہیں تو گرم بھی انہیں پر رکھو۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس بات پر غصہ ہوئے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ پر اور کہا: اے عبداللہ بن جعفر! اٹھ اور کوڑے لگا ولید کو وہ اٹھے اور ولید کو کوڑے لگائے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے جاتے تھے جب چالیس کوڑے لگائے پس سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: بس ٹھر جا پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس لگائے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے اور سب سنت ہیں اور میرے نزدیک چالیس لگانا بہتر ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۴۴۵۷ کا خلاصہ

اس روایت میں حصین بن منذر بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے جب ولید بن عقبہ کو لایا گیا۔ دو آدمیوں نے گواہی دی؛ ایک نے شراب پینے کی گواہی دی اور دوسرے نے قے کرنے کی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر اس نے شراب نہ پی ہوتی تو شراب کی قے کیوں کرتا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حد لگانے کا کہا گیا۔ آخر سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے کوڑے لگائے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ گنتے رہے۔ جب چالیس ہوئے تو انہوں نے روک دیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس لگائے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگائے، عمر رضی اللہ عنہ نے اسی لگائے، سب سنت ہیں، اور میرے نزدیک چالیس بہتر ہے۔ اس حدیث کا موضوع شراب کی حد اور گواہی کے بعد سزا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • شراب کے معاملے میں گواہی کی بنیاد پر حد کا ذکر آیا ہے۔
  • سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے کے بعد روک دیا۔
  • روایت میں چالیس اور اسی دونوں کا ذکر خلفاء کے عمل کے طور پر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں