صحیح مسلم حدیث ۴۵۷۱ - موتہ میں سلب کا واقعہ
غزوہ موتہ کی روایت: قاتل کے لیے سلب
صحیح مسلم : ۴۵۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۷۱
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ ، وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : فِي الْحَدِيثِ ، قَالَ عَوْفٌ : فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ ، قَالَ : بَلَى وَلَكِنِّي اسْتَكْثَرْتُهُ .
عوف بن مالک اشجعی روایت:
جو لوگ سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے میں ان کے ساتھ گیا غزوہ موتہ میں اور میری مدد یمن سے بھی آ پہنچی۔ پھر بیان کیا حدیث کو اسی طرح جیسے اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ عوف نے کہا: اے خالد! تم کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان قاتل کو دلایا ہے خالد نے کہا: بے شک۔ مگر مجھے یہ سامان بہت معلوم ہوتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۷۱ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ غزوہ موتہ کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ نکلے جو سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے تھے۔ پھر روایت میں اسی سابقہ واقعے جیسا مضمون بیان ہوا۔ اس میں ایک اہم جملہ یہ ہے کہ عوف رضی اللہ عنہ نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلب قاتل کے لیے مقرر فرمایا ہے؟ خالد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں، مگر مجھے وہ سامان زیادہ معلوم ہوا۔ اس حدیث کا موضوع سلب کا حق، امیر کا اجتہادی انداز، اور معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچانا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عوف رضی اللہ عنہ نے سلب کے بارے میں سابقہ فیصلہ یاد دلایا۔
- خالد رضی اللہ عنہ نے سامان کو زیادہ سمجھنے کا سبب بیان کیا۔
- اختلاف کی صورت میں معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچایا گیا۔
- غزوہ موتہ کے ضمن میں جنگی مال کا مسئلہ ذکر ہوا۔
