صحیح مسلم حدیث ۴۵۷۵ - بنی نضیر کے اموال کا مصرف
بنی نضیر کے اموال: رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا خرچ اور باقی مال
صحیح مسلم : ۴۵۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۵۷۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : " كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ،
عمر روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنی نضیر کے مال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دیے اور مسلمانوں نے اس پر چڑھائی نہیں کی گھوڑوں اور اونٹوں سے۔ ایسے مال خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر کا خرچ ایک سال کا نکال لیتے اور جو بچ رہتا وہ گھوڑوں اور ہتھیاروں کی خرید میں صرف ہوتا۔
صحیح مسلم حدیث ۴۵۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بنی نضیر کے اموال ان مالوں میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیے، اور مسلمانوں نے ان پر گھوڑوں یا اونٹوں کے ساتھ چڑھائی نہیں کی تھی۔ اس لیے وہ مال خاص طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے اپنے گھر والوں کا ایک سال کا خرچ نکالتے، اور جو باقی رہتا اسے گھوڑوں اور ہتھیاروں کی تیاری میں، اللہ کے راستے کے لیے، استعمال فرماتے۔ اس روایت کا موضوع فیء، بنی نضیر کے اموال، اور مال کے ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق ہے۔ فدک یا میراث کی بحث یہاں نہیں، بلکہ متن میں بنی نضیر کا خاص ذکر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بنی نضیر کے مال کو خاص نوعیت کا مال بتایا گیا۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر والوں کا ایک سال کا خرچ نکالتے تھے۔
- بچا ہوا مال گھوڑوں اور ہتھیاروں کی تیاری میں لگایا جاتا تھا۔
- متن میں مال کے ذاتی ذخیرے کے بجائے ضرورت اور تیاری کا ذکر ہے۔
