صحیح مسلم حدیث ۴۶۰ - اسی مضمون کی مختصر روایت
اسی مضمون کی مختصر روایت: دوزخ سے نکلنے والوں کا بیان
صحیح مسلم : ۴۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۰
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، إِلَى قَوْلِهِ : فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
ابو سعید خدری روایت:
ایک اور روایت میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح بیان کرتے ہیں مگر اس سند میں کچھ کم بیان کیا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۰ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پچھلی حدیث کے مانند نقل ہوئی، مگر اس سند میں بات کچھ کم بیان کی گئی۔ متن میں صاف کہا گیا ہے کہ روایت “اسی طرح” ہے، مگر “فی حمیل السیل” تک ذکر ہوا اور اس کے بعد کا حصہ نہیں آیا۔ اس سے ہمیں حدیث کے نقل ہونے کا ایک علمی انداز سمجھ آتا ہے: کبھی ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے آتا ہے، کبھی کسی روایت میں تفصیل زیادہ ہوتی ہے اور کسی میں کم۔ اس روایت کا تعلق شفاعت، دوزخ سے نکالے جانے والوں، اور سیلاب کے کنارے دانے کے اگنے کی مثال سے ہے۔ مگر چونکہ یہاں تفصیل کم ہے، اس لیے وضاحت بھی مختصر اور محتاط رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی حدیث مختلف سندوں سے مختصر یا مفصل آ سکتی ہے۔
- راوی نے جہاں تک متن نقل کیا، اسے واضح کر دیا گیا۔
- حدیث پڑھتے وقت مختصر اور مفصل روایت کا فرق سمجھنا چاہیے۔
