صحیح مسلم حدیث ۴۶۹۰ - ام عطیہؓ کی غزوات میں خدمت
ام عطیہؓ کی حدیث: غزوات میں کھانا، علاج اور خدمت
صحیح مسلم : ۴۶۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۶۹۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ : " غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ : أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ ، فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى الْمَرْضَى " ،
ام عطیہ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائیوں میں رہی، میں مردوں کے ٹھہرنے کی جگہ میں رہتی اور ان کا کھانا پکاتی اور زخمیوں کی دوا کرتی اور بیماروں کی خدمت کرتی۔
صحیح مسلم حدیث ۴۶۹۰ کا خلاصہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سات غزوات میں رہیں۔ ان کا کام مردوں کے ٹھہرنے کی جگہ کے پیچھے رہ کر خدمت کرنا تھا: کھانا پکانا، زخمیوں کی دوا کرنا، اور بیماروں کی دیکھ بھال کرنا۔ اس حدیث میں غزوہ میں خواتین کی خدمت، زخمیوں کا علاج، بیماروں کی تیمارداری، اور کھانا تیار کرنے کا ذکر ایک ساتھ آتا ہے۔ یہاں بھی اصل بات خدمت ہے، نہ کہ لڑائی میں براہ راست حصہ لینا۔ عام فہم انداز میں اس کا پیغام یہ ہے کہ ضرورت کے وقت مدد کے کئی راستے ہوتے ہیں۔ کوئی پانی پلاتا ہے، کوئی کھانا بناتا ہے، کوئی زخمی کو سنبھالتا ہے۔ حدیث ہمیں اسی عملی خدمت کی قدر سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ام عطیہؓ نے سات غزوات میں خدمت کا ذکر کیا۔
- زخمیوں کا علاج اور بیماروں کی دیکھ بھال بیان ہوئی۔
- حدیث میں خواتین کی خدمت کا عملی پہلو سامنے آتا ہے۔
