صحیح مسلم حدیث ۴۷۴۷ - رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت

اطاعت رسول کی حدیث: اللہ کی اطاعت کا راستہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۷۴۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ، وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ ، وَمَنْ يُطِعِ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي ، وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو کوئی اطاعت کرے حاکم کی (جس کو میں نے مقرر کیا) اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“

صحیح مسلم حدیث ۴۷۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت واضح فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ پھر فرمایا کہ جس نے حاکم کی اطاعت کی، اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے اس کی نافرمانی کی، اس نے میری نافرمانی کی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع اطاعت رسول اور اطاعت امیر ہے۔ یہاں اطاعت کو ذاتی پسند یا ناپسند کے بجائے دینی نظم کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ماننا اللہ کی فرمانبرداری کا حصہ ہے۔ اسی طرح مقرر حاکم یا امیر کی بات ماننا بھی نظم قائم رکھنے کے لیے اہم ہے، جب معاملہ نافرمانی خدا کا نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے۔
  • مقرر امیر کی اطاعت اجتماعی نظم سے متعلق ہے۔
  • دینی زندگی میں اطاعت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں