صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۹ - جہاد کے برابر عمل کی مثال
جہاد کے برابر عمل کون سا ہے؟ حدیث کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۴۸۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۸۶۹
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ؟ ، قَالَ : لَا تَسْتَطِيعُونَهُ " ، قَالَ : فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ ، يَقُولُ : " لَا تَسْتَطِيعُونَهُ " ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ : " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ ، لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر کون سی عبادت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“ پھر انہوں نے پوچھا: دو یا تین بار، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بار یہی فرماتے تھے کہ ”تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔“ آخر تیسری بار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی روزہ دار ہو کر نماز میں کھڑا رہے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا مطیع ہو نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے یہاں تک کہ لوٹے مجاہد جہاد سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۸۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر کون سا عمل ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ سوال دہرایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہد کی مثال ایسے شخص سے دی جو روزہ دار ہو، نماز میں کھڑا ہو، اللہ کی آیات کا فرمانبردار ہو، اور جب تک مجاہد واپس نہ آئے، نہ روزے سے تھکے نہ نماز سے۔ یہ مثال جہاد کی فضیلت کو سمجھانے کے لیے ہے۔ اس حدیث میں نماز، روزہ اور اللہ کی اطاعت کا ذکر بھی آیا، مگر اصل موضوع جہاد فی سبیل اللہ کا بلند اجر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم نیکیوں کے درجے کے بارے میں پوچھتے تھے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی فضیلت کو ایک مضبوط مثال سے سمجھایا۔
- مجاہد کی مثال مسلسل روزہ، نماز اور اطاعت کرنے والے سے دی گئی۔
- حدیث میں طاقت اور عمل کے بوجھ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔
