صحیح مسلم حدیث ۴۹۷۹ - دوسرے کتے کے شریک ہونے کا حکم
شکاری کتے کی حدیث: جب دوسرے کتے کی شرکت معلوم نہ ہو
صحیح مسلم : ۴۹۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۴۹۷۹
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ ، وَكَانَ لَنَا جَارًا وَدَخِيلًا وَرَبِيطًا بِالنَّهْرَيْنِ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُرْسِلُ كَلْبِي ، فَأَجِدُ مَعَ كَلْبِي كَلْبًا قَدْ أَخَذَ ، لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا أَخَذَ ، قَالَ : " فَلَا تَأْكُلْ ، فَإِنَّمَا سَمَّيْتَ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تُسَمِّ عَلَى غَيْرِهِ " .
عدی بن حاتم روایت:
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (شعبہ نے کہا) وہ ہمارا ہمسایہ اور شریک اور نوکر تھا نہرین میں (جو ایک مقام کا نام ہے) اس نے پوچھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں پھر اس کے ساتھ دوسرا کتا پاتا ہوں اب نہیں معلوم ہوتا کہ شکار کس نے پکڑا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت کھا اس کو کیونکہ تو نے بسم اللہ کہی اپنے کتے پر نہ کہ دوسرے کتے پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۴۹۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنا کتا شکار پر چھوڑتا ہوں، پھر اس کے ساتھ دوسرا کتا پاتا ہوں، اور مجھے معلوم نہیں ہوتا کہ شکار کس نے پکڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے نہ کھاؤ، کیونکہ تم نے بسم اللہ اپنے کتے پر کہی تھی، دوسرے کتے پر نہیں۔ اس روایت کا اصل موضوع “شکاری کتے کا حکم”، “دوسرا کتا شریک ہو جائے”، “بسم اللہ شکار” اور “شکار نہ کھانے کی صورت” ہے۔ حدیث میں بہت واضح احتیاط بتائی گئی ہے: جب شکار کے پکڑنے والے کتے کے بارے میں یقین نہ ہو، تو اسے نہ کھایا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنے کتے کے ساتھ نامعلوم دوسرا کتا مل جائے تو شکار نہ کھایا جائے۔
- بسم اللہ اپنے کتے پر کہی گئی تھی، دوسرے پر نہیں۔
- شکار میں یقین نہ ہو تو احتیاط کا حکم آیا ہے۔
- حدیث میں سوال کے جواب میں خاص صورت کا حکم بیان ہوا ہے۔
