صحیح مسلم حدیث ۵۰۱۸ - گوشت بہا دو اور ہانڈیاں دھو لو
گوشت بہا دو: خیبر میں پالتو گدھے کے گوشت کا حکم
صحیح مسلم : ۵۰۱۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۱۸
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْماعِيلَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْهِمْ ، فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ الْيَوْمَ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقِدُونَ ؟ " ، قَالُوا : عَلَى لَحْمٍ ، قَالَ : " عَلَى أَيِّ لَحْمٍ ؟ " ، قَالُوا : عَلَى لَحْمِ حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا وَنَغْسِلُهَا ، قَالَ : أَوْ ذَاكَ .
سلمہ بن اکوع روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے خیبر کی طرف، پھر اللہ تعالیٰ نے فتح کر دیا خیبر کو، جس دن فتح ہوا اس کی شام کو لوگوں نے بہت انگار جلائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ انگار کیسے ہیں اور کیا چیز پکاتے ہیں؟۔“ لوگوں نے عرض کیا، گوشت پکاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت، لوگوں کس چیز کا؟۔“ ہم نے کہا: بستی کے گدھوں کا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گوشت بہا دو اور ہانڈیاں توڑ ڈالو۔“ ایک شخص بولا: ہم گوشت بہا دیں اور ہانڈیاں دھو ڈالیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اچھا ایسا ہی کر لو۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۰۱۸ کا خلاصہ
یہ حدیث حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے، پھر اللہ تعالیٰ نے خیبر فتح کر دیا۔ شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ یہ آگ کس چیز کے لیے ہے؟ لوگوں نے کہا کہ گوشت پکا رہے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کس گوشت کا؟ انہوں نے کہا بستی کے گدھوں کا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے بہا دو اور ہانڈیاں توڑ دو۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ گوشت بہا دیں اور ہانڈیاں دھو ڈالیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسا بھی کر لو۔ اس حدیث میں حکم کی پیروی کے ساتھ آسان صورت بھی دکھائی دیتی ہے: گوشت چھوڑ دیا گیا، برتن دھو لیے گئے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے پہلے گوشت کی نوعیت پوچھی، پھر حکم دیا۔
- بستی کے گدھوں کا گوشت بہا دینے کا حکم آیا۔
- ہانڈیاں توڑنے کے بجائے دھونے کی اجازت بھی دی گئی۔
- حکم ملنے پر کھانے کو چھوڑنا صحابہ کا عمل تھا۔
