صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۳ - گھوڑا اور گورخر کھانا، پالتو گدھا منع
گھوڑے اور گورخر کا گوشت: پالتو گدھے سے فرق
صحیح مسلم : ۵۰۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۲۳
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ ، " وَنَهَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہم نے خیبر کے زمانہ میں گھوڑوں کا اور گورخروں کا گوشت کھایا اور منع کیا ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بستی کے گدھے سے۔
صحیح مسلم حدیث ۵۰۲۳ کا خلاصہ
یہ حدیث سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ خیبر کے زمانے میں انہوں نے گھوڑوں کا گوشت اور گورخروں کا گوشت کھایا، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بستی کے گدھے سے منع فرمایا۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ پالتو گدھا اور جنگلی گدھا یعنی گورخر ایک حکم میں نہیں رکھے گئے۔ روایت میں گھوڑے کا گوشت بھی کھانے کا ذکر ہے۔ اس لیے جب لوگ گوشت کے احکام، حلال جانور، یا گدھے کا گوشت حدیث تلاش کرتے ہیں تو یہ روایت واضح فرق بتاتی ہے۔ متن میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ کیا کھایا گیا اور کس سے منع کیا گیا، اس لیے اسی حد تک بات رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نے خیبر کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھایا۔
- گورخر کا گوشت کھانے کا ذکر بھی روایت میں موجود ہے۔
- پالتو گدھے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
- حکم بیان کرتے وقت پالتو اور جنگلی جانور کا فرق سمجھنا چاہیے۔
