صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۷ - جانور کو باندھ کر نشانہ بنانے سے منع

جانور کو نشانہ بنانے کی حدیث: باندھ کر مارنے سے ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۵۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ جَدِّي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ دَارَ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ ، فَإِذَا قَوْمٌ قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا ، قَالَ : فَقَالَ أَنَسٌ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ " .

ہشام بن زید بن انس بن مالک روایت:

میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر میں گیا، وہاں کچھ لوگوں نے ایک مرغی کو نشانہ بنایا تھا اور اس پر تیر مار رہے تھے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا جانوروں کو باندھ کر مارنے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۰۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں جانور کو نشانہ بنانے کی ممانعت ایک واقعے کے ذریعے بیان ہوئی ہے۔ ہشام بن زید کہتے ہیں کہ وہ اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے گھر گئے۔ وہاں کچھ لوگوں نے ایک مرغی کو باندھ کر یا کھڑا کر کے نشانہ بنایا ہوا تھا اور اس پر تیر مار رہے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت صاف ہے: جاندار کو کھیل یا مشق کا نشانہ بنانا درست نہیں۔ جانور بھی تکلیف محسوس کرتے ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ظلم والا رویہ حدیث کے مطابق منع ہے۔ یہاں موضوع شکار نہیں، بلکہ باندھ کر نشانہ بنانے اور تکلیف دینے کا عمل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔
  • مرغی کو نشانہ بنا کر تیر مارنے پر انس رضی اللہ عنہ نے فوراً تنبیہ کی۔
  • جاندار کو کھیل یا مشق کا ہدف بنانا حدیث کے خلاف ہے۔
  • جانوروں کے ساتھ رحم اور احتیاط کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں