صحیح مسلم حدیث ۵۰۶۳ - جانور کو باندھ کر مارنے کی ممانعت

جانور کو باندھ کر مارنے کی حدیث: اسلام میں جانوروں پر رحم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۰۶۳

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنَ الدَّوَابِّ صَبْرًا " .

جابر بن عبداللہ روایت:

منع کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے۔

صحیح مسلم حدیث ۵۰۶۳ کا خلاصہ

یہ مختصر حدیث ایک بہت اہم بات بیان کرتی ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ جانور کو قابو کر کے، بھاگنے کا راستہ بند کر کے، اسے تکلیف دے دے کر مارنا درست نہیں۔ یہ بات جانوروں پر رحم حدیث کے موضوع میں بنیادی رہنمائی دیتی ہے۔ اسلام میں ذبح کا اپنا طریقہ ہے، لیکن بے وجہ اذیت، قید کر کے نشانہ بنانا، یا جانور کو تکلیف میں ڈالنا منع ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ طاقت رکھنے والا انسان کمزور مخلوق کے ساتھ جیسے چاہے سلوک نہیں کر سکتا۔ رحم، انصاف اور احتیاط لازم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانور کو باندھ کر تکلیف دیتے ہوئے مارنا منع ہے۔
  • ذبح اور ظلم میں فرق ہے؛ حدیث ظلم والے طریقے سے روکتی ہے۔
  • کمزور مخلوق پر طاقت آزمانا درست رویہ نہیں۔
  • جانوروں کے ساتھ رحم اسلامی اخلاق کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں