صحیح مسلم حدیث ۵۴۷۲ - سونے کی انگوٹھی اور آگ کے انگارے کی مثال
سونے کی انگوٹھی: جہنم کے انگارے والی حدیث
صحیح مسلم : ۵۴۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۷۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فِي يَدِ رَجُلٍ ، فَنَزَعَهُ فَطَرَحَهُ ، وَقَالَ : " يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى جَمْرَةٍ مِنْ نَارٍ فَيَجْعَلُهَا فِي يَدِهِ " ، فَقِيلَ لِلرَّجُلِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، خُذْ خَاتِمَكَ انْتَفِعْ بِهِ ، قَالَ : لَا وَاللَّهِ لَا آخُذُهُ أَبَدًا وَقَدْ طَرَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سونے کی انگوٹھی دیکھی ایک شخص کے ہاتھ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتار کر پھینک دی اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی قصد کرتا ہے جہنم کے انگارے کا، پھر اس کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو لوگوں نے اس شخص سے کہا: تو اپنی انگوٹھی اٹھا لے اور اس سے نفع حاصل کر (یعنی اس کی قیمت سے) وہ بولا: قسم اللہ کی! میں اس کو ہاتھ نہیں لگاؤں گا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا۔ (سبحان اللہ! صحابہ کا تقویٰ اور اتباع اس درجہ کو پہنچا تھا اگر وہ اٹھا لیتا اور بیچ لیتا تو گناہ نہ ہوتا)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اتار کر پھینک دیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی جہنم کے انگارے کا قصد کرتا ہے، پھر اسے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ بعد میں لوگوں نے اس شخص سے کہا کہ اپنی انگوٹھی اٹھا لو اور اس سے فائدہ لے لو، مگر اس نے کہا کہ جس چیز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینک دیا، میں اسے کبھی نہیں اٹھاؤں گا۔ سونے کی انگوٹھی کی حدیث یہاں اطاعت، احتیاط اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر سنجیدہ عمل کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے کی انگوٹھی پر اس روایت میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
- صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بہت سنجیدگی سے لیا۔
- منع کی گئی چیز سے فائدہ لینے کے معاملے میں بھی احتیاط دکھائی گئی۔
- دینی حکم سامنے آ جائے تو اپنی پسند چھوڑ دینا اطاعت ہے۔
