صحیح مسلم حدیث ۵۴۹۴ - جوتے زیادہ پہننے کی ہدایت
جوتے زیادہ پہننے کی حدیث اور سفر میں آسانی
صحیح مسلم : ۵۴۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۴۹۴
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِي غَزْوَةٍ غَزَوْنَاهَا : " اسْتَكْثِرُوا مِنَ النِّعَالِ ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَزَالُ رَاكِبًا مَا انْتَعَلَ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جہاد کے سفر میں جس میں ہم شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جوتے بہت پہنا کرو کیونکہ جوتے پہننے سے آدمی سوار رہتا ہے۔“ (یعنی مثل سوار کے پاؤں کو تکلیف نہیں پہنچتی)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۴۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جوتا پہننا ہے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ایک جہاد کے سفر میں فرماتے سنا: جوتے بہت پہنا کرو، کیونکہ جوتے پہننے سے آدمی سوار رہتا ہے۔ ترجمے میں اس کا مطلب یہ بتایا گیا کہ جوتا پہننے سے پاؤں کو تکلیف نہیں پہنچتی، گویا آدمی کو چلنے میں آسانی رہتی ہے۔ یہ حدیث جوتے پہننے کی حدیث، سفر میں جوتا پہننا، نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت اور پاؤں کی حفاظت جیسے موضوعات سے جڑی ہے۔ متن میں بات سادہ ہے کہ سفر کے موقع پر جوتا پہننے کو پسند کیا گیا تاکہ چلنے والے کو سہولت رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں جوتا پہننا آسانی کا سبب بنتا ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جوتے زیادہ پہننے کی ہدایت فرمائی۔
- حدیث میں جوتے کو چلنے والے کے لیے مددگار بتایا گیا۔
- یہ بات ایک جہاد کے سفر کے موقع پر بیان ہوئی۔
