صحیح مسلم حدیث ۶ - جھوٹی نسبت سے بچنے کی تاکید
جھوٹی حدیث سے بچنا: سیدنا مغیرہؓ کی روایت
صحیح مسلم : ۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶
وحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الأَسدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسَدِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ ، لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ان الفاظ کے علاوہ ”مجھ پر جھوٹ بولنا تمھارا کسی عام شخص پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے“۔
صحیح مسلم حدیث ۶ کا خلاصہ
یہ روایت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ہے۔ اس میں پچھلی روایت جیسا مضمون بیان ہوا ہے، البتہ وہ جملہ ذکر نہیں کیا گیا کہ میرے اوپر جھوٹ بولنا کسی عام شخص پر جھوٹ بولنے جیسا نہیں۔ اس سے اصل بات پھر بھی واضح رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنا بہت سخت معاملہ ہے۔ روایت کے الفاظ میں یہ فرق بھی حدیث بیان کرنے کی امانت کو دکھاتا ہے کہ راوی نے وہی بیان کیا جو اس کے طریق میں آیا۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ حدیث کی نسبت میں احتیاط کی جائے، بات کو بڑھا کر نہ کہا جائے، اور جو الفاظ ثابت ہوں انہی کو بیان کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث بیان کرتے وقت الفاظ کی امانت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت سے بچنا لازم ہے۔
- روایت میں جو الفاظ نہ ہوں، انہیں اپنی طرف سے شامل نہیں کرنا چاہیے۔
- مشابہ روایات میں بھی لفظی فرق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
