صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۰ - اللہ کے نزدیک سچا یا جھوٹا لکھا جانا

سچ اور جھوٹ کا انجام: اللہ کے ہاں لکھا جانا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۴۰

حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِ عِيسَى : وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ وَيَتَحَرَّى الْكَذِبَ ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ : حَتَّى يَكْتُبَهُ اللَّهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو او پر گزرا۔ ابن مسہر کی روایت میں ہے کہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو لکھ لیتا ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۰ کا خلاصہ

اس روایت میں پچھلی حدیث کے مضمون کو ایک اور طریق سے نقل کیا گیا ہے۔ متن میں بتایا گیا کہ عیسیٰ بن یونس کی روایت میں کچھ الفاظ، یعنی سچ اور جھوٹ کی کوشش کرنے کا ذکر، نہیں آیا۔ ابن مسہر کی روایت میں یہ لفظ آیا کہ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے لکھ لیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ راوی حضرات الفاظ کے فرق کو بھی امانت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع پھر بھی سچائی اور جھوٹ ہے۔ سچ انسان کو نیکی کی طرف لے جاتا ہے، اور جھوٹ برائی کی طرف۔ یہاں خاص بات یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک انسان کا سچا یا جھوٹا لکھا جانا بیان ہوا ہے، اس لیے زبان کی عادت معمولی بات نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت کے الفاظ کا فرق بھی امانت سے بیان کیا گیا۔
  • سچ اور جھوٹ کے انجام کا مضمون برقرار ہے۔
  • اللہ کے نزدیک لکھے جانے کا ذکر انسان کو محتاط کرتا ہے۔
  • زبان کی مسلسل عادت انسان کی پہچان بن سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں