صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۲ - اصل طاقت غصے کے وقت ضبط نفس ہے

غصہ کنٹرول کرنے کی حدیث اور اصل طاقت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۴۲

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۲ کا خلاصہ

یہ روایت اوپر والی حدیث کے معنی کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، اس لیے اس کا مرکزی موضوع بھی غصے پر قابو اور نفس کی مضبوطی ہے۔ حدیث میں دو باتیں بہت صاف انداز میں سامنے آتی ہیں۔ ایک یہ کہ انسانوں کے عام معیار ہمیشہ درست نہیں ہوتے؛ لوگ بے اولاد ہونے اور پہلوان ہونے کو ایک ظاہری زاویے سے دیکھتے تھے۔ دوسری یہ کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اصل معیار آخرت کی سوچ اور غصے کے وقت خود کو روکنے سے جوڑ دیا۔ آج بھی لوگ طاقت کو آواز بلند کرنے، جواب دینے، یا کسی کو دبا دینے میں سمجھتے ہیں، مگر اس حدیث کے مطابق حقیقی پہلوان وہ ہے جو غصہ آتے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ یہی غصہ کنٹرول کرنے کی حدیث کا اصل پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصل طاقت غصے کے وقت خود کو سنبھالنے میں ہے، صرف جسمانی زور میں نہیں۔
  • غصے میں زبان اور عمل پر قابو رکھنا بہتر انسان بننے کی نشانی ہے۔
  • بچوں کے معاملے کو صرف دنیاوی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے، حدیث آخرت کی سوچ بھی یاد دلاتی ہے۔
  • لوگ جس چیز کو کمزوری سمجھتے ہیں، نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کی اصل سمجھ درست فرمائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں