صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۷ - نصیحت سنو اور غصہ کم کرو
غصے میں أعوذ بالله پڑھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۶۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۴۷
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ ثَابِتٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ، قَالَ : اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَجَعَلَ أَحَدُهُمَا يَغْضَبُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ " ، فَقَامَ إِلَى الرَّجُلِ رَجُلٌ مِمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آنِفًا ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ ذَا عَنْهُ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَمَجْنُونًا تَرَانِي ؟ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔ اس میں یہ ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سن کر، جا کر اس شخص سے بیان کیا (جو غصے ہوا تھا) وہ بولا کیا تو مجھ کو مجنون سمجھتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۶۴۷ کا خلاصہ
یہ روایت بھی غصہ ختم کرنے کی دعا کے بارے میں ہے، مگر اس میں ایک اضافی بات آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم کی بات سننے والے ایک شخص نے جا کر غصے والے آدمی کو یہ کلمہ بتایا۔ اس آدمی نے جواب دیا: کیا تم مجھے مجنون سمجھتے ہو؟ اس سے ایک اہم سبق ملتا ہے کہ کبھی انسان غصے میں اچھی نصیحت کو بھی غلط سمجھ بیٹھتا ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ جب غصہ چہرے پر ظاہر ہو، رنگ بدل جائے، اور دل بھڑک اٹھے تو أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ کہنا چاہیے۔ غصے کی حالت میں نصیحت کو توہین نہ سمجھنا بھی اہم ہے، کیونکہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اسے غصہ کم کرنے کا ذریعہ بتایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غصہ آئے تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- گالی گلوچ غصے کو بڑھا سکتی ہے، اس لیے زبان کو روکنا ضروری ہے۔
- نصیحت ملے تو اسے سنجیدگی سے لینا چاہیے، اسے اپنی توہین نہ سمجھنا چاہیے۔
