صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۰ - حضرت آدم کی پیدائش کا سبق

آدم علیہ السلام کی پیدائش: اپنے نفس کو پہچانیے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۶۵۰

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۶۵۰ کا خلاصہ

یہ روایت بھی حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے۔ حدیث میں ابلیس کے آدم علیہ السلام کے گرد گھومنے اور اندر سے خالی ہونے کو دیکھ کر انسان کی کمزوری سمجھنے کا ذکر آتا ہے۔ اس سے ہمیں اپنے بارے میں ایک حقیقت یاد آتی ہے کہ انسان جلد متاثر ہو سکتا ہے، جلد غصے میں آ سکتا ہے، اور کبھی اپنے نفس پر قابو کھو سکتا ہے۔ مگر اس حدیث کا مقصد مایوسی نہیں، بلکہ ہوشیاری ہے۔ جب آدمی اپنی کمزوری کو پہچانتا ہے تو وہ اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے نفس کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت آدم کی پیدائش کی حدیث ہمیں اپنے اندر کی حالت پر نظر رکھنے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انسان کو اپنی کمزوری کا احساس رکھنا چاہیے۔
  • شیطان انسان کی حالت کو دیکھتا اور موقع تلاش کرتا ہے۔
  • اپنے نفس پر قابو کی ضرورت انسان کی پیدائش کے بیان سے بھی سمجھ آتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں