صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۵ - اللہ کی محبت اور زمین میں قبولیت

اللہ کی محبت کی حدیث: بندے کے لیے آسمان اور زمین میں قبولیت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۰۵

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَقَالَ : إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبَّهُ ، قَالَ : فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي السَّمَاءِ ، فَيَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ، قَالَ : ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا دَعَا جِبْرِيلَ ، فَيَقُولُ : إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضْهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُهُ جِبْرِيلُ ، ثُمَّ يُنَادِي فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ ، قَالَ : فَيُبْغِضُونَهُ ثُمَّ تُوضَعُ لَهُ الْبَغْضَاءُ فِي الْأَرْضِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے! میں محبت کرتا ہوں فلاں بندے سے تو بھی اس سے محبت کر، پھر جبرئیل علیہ السلام محبت کرتے ہیں اس سے اور آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے فلاں سے تم بھی محبت کرو اس سے، پھر آسمان والے فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں۔بعد اس کے زمین والوں کے دلوں میں وہ مقبول ہو جاتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے کسی بندے سے تو جبرئیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے: میں فلاں کا دشمن ہوں تو بھی اس کا دشمن ہو، پھر وہ بھی اس کے دشمن ہو جاتے ہیں، پھر منادی کر دیتے ہیں آسمان والوں میں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے دشمنی رکھتا ہے تم بھی اس سے دشمنی رکھو وہ بھی اس کے دشمن ہو جاتے ہیں، بعد اس کے زمین والوں کے دلوں میں اس کی دشمنی جم جاتی ہے۔“ (یعنی زمین میں بھی جو اللہ کے نیک بندے یا فرشتے ہیں وہ اس کے دشمن رہتے ہیں سچ ہے۔ از خدا گشتی ہمہ چیز از تو گشت

صحیح مسلم حدیث ۶۷۰۵ کا خلاصہ

یہ حدیث اللہ کی محبت کے موضوع پر بہت اثر والی تعلیم دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرئیل علیہ السلام کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر جبرئیل علیہ السلام اس سے محبت کرتے ہیں اور آسمان والوں میں اعلان ہوتا ہے کہ اللہ فلاں سے محبت کرتا ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔ پھر آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور زمین میں اس کے لیے قبولیت رکھی جاتی ہے۔ اسی حدیث میں یہ بھی آیا کہ جس بندے سے اللہ ناراضی رکھتا ہے، اس کے بارے میں بھی آسمان والوں میں اعلان ہوتا ہے اور زمین میں اس کے لیے بغض رکھا جاتا ہے۔ یہ اللہ کی محبت، جبرئیل کی محبت، اور لوگوں کے دلوں میں قبولیت کی حدیث ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصل عزت اور قبولیت اللہ کی محبت سے جڑی ہوئی ہے۔
  • اللہ کی محبت کا اثر آسمان والوں تک بیان کیا گیا ہے۔
  • زمین میں قبولیت بھی اللہ کے حکم سے رکھی جاتی ہے۔
  • حدیث بندے کو اللہ کی رضا کی فکر کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں