صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۵ - نماز روزہ کم مگر محبت اللہ و رسول سے

نماز، روزہ، صدقہ کم؛ مگر اللہ اور رسول صلى الله عليه وسلم کی محبت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۷۱۵

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَيْنِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِينَا رَجُلًا عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَتَى السَّاعَةُ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ : فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ ، وَلَا صِيَامٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ " .

انس بن مالک روایت:

میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں مسجد سے نکل رہے تھے اتنے میں ایک شخص ہم کو ملا مسجد کے سائبان کے پاس اور بولا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے کیا سامان تیار کیا ہے قیامت کے لیے؟“ یہ سن کر وہ شخص دب گیا، پھر بولا: یا رسول اللہ! میں نے تو کچھ بہت نماز اور روزہ اور صدقہ تیار نہیں کیا البتہ میں محبت رکھتا ہوں اللہ سے اور اس کے رسول سے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۷۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسجد سے نکل رہے تھے۔ ایک شخص نے پوچھا: قیامت کب ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کے لیے کیا تیار کیا ہے؟ وہ شخص یہ سن کر جیسے دب گیا، پھر عرض کیا کہ میں نے بہت زیادہ نماز، روزہ اور صدقہ تیار نہیں کیا، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت رکھتے ہو۔ اس حدیث میں فرض اعمال چھوڑنے کی بات نہیں، بلکہ اس شخص نے بہت زیادہ نفل عمل کا دعویٰ نہ کیا۔ اصل پیغام یہ ہے کہ قیامت کی تیاری میں اللہ اور رسول کی محبت بہت بڑی امید ہے، اور انسان کو اپنی محبت کا رخ درست رکھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کا سوال انسان کو اپنی تیاری سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
  • اپنے اعمال کو بڑا سمجھنے کے بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔
  • اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بندے کے لیے امید کا سبب ہے۔
  • محبت کا دعویٰ انسان کو نیکی اور درست تعلق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں