صحیح مسلم حدیث ۶۸۰۰ - اچھی سنت جاری کرنے کا اجر

اچھی سنت جاری کرنے کی حدیث: صدقہ اور نیک کام کی ترغیب

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۸۰۰

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ ، فَأَبْطَئُوا عَنْهُ حَتَّى رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ ، قَالَ : ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ بِصُرَّةٍ مِنْ وَرِقٍ ، ثُمَّ جَاءَ آخَرُ ، ثُمَّ تَتَابَعُوا حَتَّى عُرِفَ السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا ، بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا ، بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا ، وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ " .

جریر بن عبداللہ روایت:

کچھ دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ کمبل پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا برا حال دیکھا اور ان کی محتاجی دریافت کی تو لوگوں کو رغبت دلائی صدقہ دینے کی۔ لوگوں نے صدقہ دینے میں دیر کی یہاں تک کہ اس بات کا رنج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر معلوم ہوا، پھر ایک انصاری شخص ایک تھیلی روپیوں کی لے کر آیا، پھر دوسرا آیا یہاں تک کہ تار بندھ گیا (صدقے اور خیرات کا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر خوشی معلوم ہونے لگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اسلام میں اچھی بات نکالے (یعنی عمدہ بات کو جاری کرے جو شریعت کی رو سے ثواب ہے) پھر لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو اس کو اتنا ثواب ہو گا جتنا سب عمل کرنے والوں کو ہو گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں کچھ کمی نہ ہو گی اور جو اسلام میں بری بات نکالے (مثلاً بدعت یا گناہ کی بات) اور لوگ اس کے بعد اس پر عمل کریں تو تمام عمل کرنے والوں کے برابر گناہ اس پر لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہ ہو گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۸۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ دیہاتی لوگ ضرورت کی حالت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کی محتاجی دیکھی اور لوگوں کو صدقہ کی ترغیب دلائی۔ پہلے لوگ دیر کرتے رہے، پھر ایک انصاری شخص روپیوں کی تھیلی لے آیا، اس کے بعد لوگ پے در پے صدقہ دینے لگے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے چہرے پر خوشی ظاہر ہوئی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھی سنت جاری کرے، پھر لوگ اس پر عمل کریں، تو اسے عمل کرنے والوں کے برابر اجر ملے گا اور ان کے اجر میں کمی نہیں ہو گی۔ اور جو بری سنت جاری کرے، اس پر عمل کرنے والوں جیسا گناہ ہو گا۔ “اچھی سنت جاری کرنے کی حدیث” کا اصل پس منظر یہاں صدقہ اور نیکی کی ابتدا ہے، بدعت ایجاد کرنا نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیکی کی اچھی ابتدا دوسروں کو بھی عمل پر ابھار سکتی ہے۔
  • صدقہ کی ترغیب دینا ضرورت مندوں کی مدد کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
  • اچھی سنت پر عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہوتی۔
  • بری راہ شروع کرنے کا وبال بھی بڑا ہو سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں